اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائیٹرز کی خبر کے مطابق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ موجودہ سلامتی کونسل عالمی امن کے قیام کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ایسا نظام جس میں 190 سے زائد ممالک کی مرضی پانچ ممالک کے فیصلوں کے تابع ہو، نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی عالمی اعتماد قائم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ 81 سال قبل امن اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی اقوام متحدہ اب اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگئی ہے یا اسے ایسا کرنے سے قاصر کردیا گیا ہے۔
اردوان نے غزہ کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت، رحم اور انصاف پر یقین رکھنے والا کوئی شخص وہاں ہونے والے واقعات سے آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔
انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل دوسری مرتبہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کرسکے، جسے انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔
اردوان نے ان ممالک سے بھی مطالبہ کیا جو ابھی تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے۔
ترک صدر نے غزہ کی صورتحال کو موجودہ دور کا سب سے غیر انسانی اور شرمناک بحران قرار دیا۔
ترکیہ طویل عرصے سے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کا سخت ناقد رہا ہے اور اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات بھی عائد کرتا ہے، تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
اردوان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ عالمی ادارہ زیادہ جامع اور مؤثر انداز میں دنیا کے تمام ممالک کی نمائندگی کرسکے۔
ان کے مطابق عالمی امن اور سلامتی سے متعلق فیصلوں میں محدود ممالک کی بالادستی ختم کرکے اقوام متحدہ کے وسیع تر رکن ممالک کی آواز کو زیادہ مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔
ترک صدر نے کہا کہ دنیا میں امن کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کو موجودہ عالمی حقائق کے مطابق زیادہ منصفانہ اور مؤثر ادارہ بنانا ہوگا۔
