اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے ممکنہ طور پر تیار ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کے حوالے سے تین ممکنہ راستوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بات فاکس نیوز کے نمائندے ٹری ینگسٹ سے گفتگو میں کہی۔ امریکی صدر کے مطابق وہ ایران کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں بہت بڑے اقدامات ہوسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس نیویارک میں جاری ہے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔ ٹرمپ سے جب ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ممکنہ طور پر اس کے لیے تیار ہوں گے۔
ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے سامنے تین راستے موجود ہیں۔ ان میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی، اسے معاشی طور پر کمزور ہونے دینا یا پھر کسی معاہدے تک پہنچنا شامل ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے انتہائی سخت الفاظ بھی استعمال کیے اور ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق سوال اٹھایا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً سات ماہ سے شدید کشیدگی جاری ہے۔ واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات پر بھی توجہ مرکوز ہے۔
دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اتوار کو کہا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی شرائط پہنچادی ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج کا انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران اس کی آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی توانائی اور تجارت پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔
ایرانی مؤقف کے حوالے سے مذاکرات کے امکانات کے ساتھ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے تیل، گیس اور کارگو کی ترسیل چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد ممکنہ طور پر نیویارک میں ایرانی اور امریکی قیادت کے درمیان کسی رابطے یا ملاقات پر بھی عالمی توجہ مرکوز رہے گی، تاہم فی الحال ایسی ملاقات کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔
