Operation Radd-ul-Fasaad 3 Security forces' operations in Balochistan; 11 terrorists killed.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت مختلف کارروائیوں کے دوران فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے گوارگو میں کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

اسی دوران چاغی کے علاقوں امین آباد اور سیاہ چنگ میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کیں، جہاں 6 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کو آگے بڑھانا اور ان کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹس میں بھی دونوں صوبوں کو ملک میں تشدد سے متعلق سرگرمیوں کا اہم مرکز قرار دیا گیا ہے۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی 2026 کی دوسری سہ ماہی سے متعلق رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ملک بھر میں تشدد سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 96 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 475 افراد ہلاک ہوئے، جو مجموعی ہلاکتوں کا 61 فیصد سے زائد بنتا ہے، جبکہ بلوچستان میں 265 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 34 فیصد ہیں۔

اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخوا میں تشدد کے 151 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملک بھر کے 57 فیصد واقعات کے برابر تھے، جبکہ بلوچستان میں 94 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو قومی سطح پر تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مزید آپریشنز بھی کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران برآمد ہونے والا اسلحہ اور گولہ بارود بھی دہشت گردی کے خلاف جاری تحقیقات میں اہم شواہد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔