When will the US-Iran war end Venice acknowledges the difficulty of the Trump administration

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی کو جنگ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ لڑائی کب ختم ہوگی، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے بعد تنازع ساتویں ماہ میں داخل ہوگیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بڑی جنگی کارروائیاں ختم کردی ہیں، تاہم رواں ہفتے مختلف مقامات پر دوبارہ فائرنگ اور حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’میں اسے جنگ نہیں کہوں گا، اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہورہی، اگرچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ بعض مقامات پر صورتحال دوبارہ بھڑکی ہے۔

وینس نے کہا کہ واشنگٹن کی موجودہ توجہ اس بات پر ہے کہ ایران کو تجارتی تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے سے روکا جائے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی کارروائیوں کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

امریکی نائب صدر نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے واشنگٹن کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات نے ایک بڑے عالمی توانائی بحران کو ٹالنے میں مدد دی ہے۔

ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے سے متعلق سوال پر وینس نے کہا کہ لڑائی اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب ایرانی تجارتی جہازوں پر فائرنگ روک دیں۔ تاہم جب ان سے بار بار پوچھا گیا کہ یہ کب ہوگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس کا جواب معلوم نہیں۔

رپورٹ کے مطابق تنازع نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

منگل کو امریکا نے ایران کے ساحلی علاقے میں ان اہداف پر فضائی حملے کیے جنہیں واشنگٹن نے فوجی تنصیبات قرار دیا۔ امریکا نے یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی۔