اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے عرب نیوز شائع اپنے مضمون میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت اور اس کے اسٹریٹجک اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد اسے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے اور اس معاہدے کی اہمیت اور تینوں اتحادی ممالک کے لیے اس کے اسٹریٹجک مضمرات کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق متعدد مبصرین نے اس معاہدے کی افادیت اور اس پر عمل درآمد کی عملی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں نے اس معاہدے کو اس انداز میں پیش کیا جیسے یہ مخصوص ممالک کے عزائم اور اسٹریٹجک منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہو اور اسی وجہ سے اسے مؤثر ہونے سے پہلے ہی کمزور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بعض لوگوں نے اسے فرقہ وارانہ نوعیت کا معاہدہ قرار دینے کی بھی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تشریحات ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرتی ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ اپنے مقصد اور نوعیت کے اعتبار سے دفاعی ہے۔ پرنس ترکی الفیصل کے بقول اس اجتماعی سیکیورٹی انتظام کی افادیت پر صرف وہی لوگ سوال اٹھا سکتے ہیں جو ان غیر فرقہ وارانہ ریاستوں کے خلاف مخالفانہ عزائم رکھتے ہوں یا مستقبل میں انہیں نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
ان کے مطابق فوری سیکیورٹی اور فوجی خطرات کے ساتھ ساتھ مستقبل میں متوقع خطرات سے نمٹنے کے لیے اتحاد قائم کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کا جائز حق ہے اور بین الاقوامی سفارت کاری کی تاریخ میں بھی اس کی باقاعدہ مثالیں موجود ہیں۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے لکھا کہ ایسے اتحاد ذمہ دار ریاستوں کے درمیان اس وقت قائم ہوتے ہیں جب وہ اپنی قومی سلامتی اور استحکام کو لاحق خطرات کی نوعیت اور دائرہ کار کے بارے میں مشترکہ اسٹریٹجک جائزہ رکھتی ہوں۔ ان کے مطابق یہ تعاون صرف متعلقہ ممالک کی سلامتی تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس وسیع جغرافیائی و اسٹریٹجک ماحول کے امن و استحکام سے بھی جڑا ہوتا ہے جس میں یہ ممالک واقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک خطے میں جاری جنگوں، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ اسٹریٹجک خلا، طاقت کے عدم توازن اور گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم علاقائی نظام کے کمزور ہونے کے باعث ایک مشترکہ تشویش رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ علاقائی نظام تاریخی طور پر عالمی سطح پر اس خطے کے تحفظ کے ذریعے قائم رہا ہے، کیونکہ اس خطے کی سلامتی اور استحکام صرف اس کی جغرافیائی و معاشی اہمیت کے باعث نہیں بلکہ اس کے مرکزی محل وقوع، تاریخی اہمیت اور سیاسی کردار کی وجہ سے بھی پوری دنیا کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے بقول سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں بڑی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ممالک ہیں اور ان کی مختلف صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان صلاحیتوں کا امتزاج خطے میں اسٹریٹجک توازن بحال کرنے اور علاقائی تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ اسٹریٹجک خلا کو پُر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اتحاد کے ذریعے تینوں ممالک ایک ایسے بڑے اسٹریٹجک فریق کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو اپنے خلاف یا وسیع تر خطے کے خلاف لاحق خطرات کا مقابلہ کرسکے۔ ان کے مطابق مستقبل میں یہ اتحاد ان دیگر ممالک کے لیے بھی کھل سکتا ہے جو اسی نوعیت کے اسٹریٹجک مقاصد رکھتے ہوں۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ بعض ایسی تشریحات، جو مکہ معاہدے کے وسیع تر اسٹریٹجک پہلوؤں کو پوری طرح نہیں سمجھتیں، سعودی عرب کی اہمیت اور اس اتحاد میں اس کے کردار کو صرف اس کی مالی طاقت اور اپنی سیکیورٹی یقینی بنانے کی کوششوں تک محدود کر دیتی ہیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت اتحاد کے دیگر فریقوں سے کسی طور کم نہیں بلکہ بعض پہلوؤں میں ان سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے کسی قابل اعتماد شراکت دار کی تلاش میں رہا ہے اور اسے سعودی عرب کے لیے کوئی منفرد معاملہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام ریاستیں اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے یہی کوشش کرتی ہیں۔
تاہم شہزادہ ترکی الفیصل کے بقول عالمی جغرافیائی و سیاسی نقشے پر سعودی عرب کے مقام نے اسے ان ممالک کے لیے ایک اہم مرکز بنا دیا ہے جو اس کی حمایت اور تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کئی عوامل کا مجموعہ ہے، جن میں اس کا اہم محل وقوع، مرکزی مذہبی حیثیت، تیل کے وسیع ذخائر، مالی طاقت، پالیسیوں میں اعتدال اور حقیقت پسندی، سفارتی کردار، وسیع بین الاقوامی تعلقات اور فوجی صلاحیتیں شامل ہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب کا جغرافیائی محل وقوع اسے عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری سلامتی، خلیج عرب اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور بڑی عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات پر نمایاں اثرانداز ہونے کی صلاحیت دیتا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے آبنائے ہرمز کی بندش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے بحیرہ احمر پر سعودی عرب کے محل وقوع کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ان کے مطابق سعودی بندرگاہوں اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی تیاری توانائی کی سپلائی کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی اور تقسیم کے نظام کے لیے ایک اہم لاجسٹکس مرکز کا کردار ادا کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل اب بھی سعودی عرب کے اہم ترین اسٹریٹجک اثاثوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اوپیک میں بڑے تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں مسلسل نمایاں رہا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے بقول سعودی عرب کے پاس اضافی پیداواری صلاحیت بھی موجود ہے، جس کے باعث وہ کئی دیگر بڑے پیدا کنندگان کے مقابلے میں اپنی تیل کی پیداوار میں نسبتاً تیزی سے اضافہ یا کمی کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صلاحیت سعودی عرب کو عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق سعودی تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، حکومتی آمدنی اور معاشی ترقی پر دور رس اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب محض تیل برآمد کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈی کے انتظام میں بھی ایک اہم فریق ہے۔ انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے ذریعے اپنی تیل سے حاصل ہونے والی دولت کو مستقل معاشی، تکنیکی اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق سعودی عرب سرمایہ کاری، سیاحت، تفریح، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ، کان کنی، قابل تجدید اور جوہری توانائی اور دفاعی پیداوار سمیت دیگر اہم معاشی شعبوں میں بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسٹریٹجک محل وقوع اور تیل کے ذخائر کسی ملک کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کے بنیادی عوامل ہیں تو سعودی عرب کی مذہبی حیثیت بھی اس سے کم اہم نہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب مسلمانوں کے قبلہ، خانہ کعبہ اور اسلام کے دو مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا مرکز ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے لکھا کہ سعودی عرب کی یہ منفرد مذہبی اہمیت اسے ایسی بین الاقوامی حیثیت فراہم کرتی ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں۔ ان کے مطابق مقدس مقامات کی انتظامی نگرانی، انتظام و انصرام اور سیکیورٹی کو یقینی بنانا سعودی عرب کے لیے ایک اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
انہوں نے کہا کہ اس ذمہ داری نے سعودی عرب کو افریقہ، ایشیا، یورپ اور امریکا میں موجود مسلم حکومتوں، مسلم کمیونٹیز اور اسلامی تنظیموں کے ساتھ وسیع اور گہرے تعلقات قائم کرنے میں بھی مدد دی ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب کی مذہبی حیثیت اسے مسلم دنیا میں ایک بااثر آواز بننے کا موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ اس کا عرب دنیا میں اہم کردار، مسلم دنیا میں مرکزی حیثیت، بڑی توانائی پیدا کرنے والے ملک کی حیثیت، مضبوط معیشت اور جی20 سمیت عالمی و علاقائی تنظیموں میں فعال رکنیت اس کے اثر و رسوخ کو مزید بڑھاتی ہے۔
پرنس ترکی الفیصل نے کہا کہ بہت کم ممالک ایسے ہیں جہاں اثر و رسوخ، عالمی حیثیت اور اسٹریٹجک اہمیت کے اتنے مختلف ذرائع ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہوں۔
انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب نے تاریخی طور پر امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ چین، روس، یورپی یونین اور دنیا کے بیشتر ممالک کے ساتھ بھی متعدد شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کی ہیں، سوائے صہیونی ریاست کے۔
ان کے مطابق یہ تعلقات مشترکہ مفادات اور باہمی فوائد کی بنیاد پر قائم ہیں اور ان کا مقصد سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور وسیع تر اسٹریٹجک دائرہ کار کو آگے بڑھانا ہے۔
پرنس ترکی الفیصل کے بقول سعودی عرب اپنے بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کو احتیاط، اعتماد اور ساکھ کی بنیاد پر آگے بڑھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں تنازعات اور جنگوں کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتا ہے اور اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو فلسطینی حقوق کے فروغ اور بحران زدہ خطے کو طویل تنازعات سے نکالنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
ان کے مطابق اس طرز عمل نے سعودی عرب کو ایک ایسے غیر یقینی عالمی نظام میں اہم اسٹریٹجک فریق بنا دیا ہے جو تیزی سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
آخر میں پرنس ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنی اسٹریٹجک اہمیت سے قطع نظر مستقبل کی جانب اعتماد کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور اپنی اہمیت کے مختلف ذرائع کو اپنی طاقت کی تعمیر کے لیے استعمال کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے حصول میں صرف اضافی قدر فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کا مقصد ایک محفوظ اور مستحکم خطے میں سعودی عرب کے بلند حوصلہ منصوبوں کی کامیابی کو یقینی بنانے میں مدد دینا ہے۔
پرنس ترکی الفیصل سعودی عرب کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ اور سابق سفیر ہیں۔ وہ کنگ فیصل فاؤنڈیشن کے بانی و ٹرسٹی اور کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین بھی ہیں۔
