اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے جی 20 اجلاس میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سخت ضوابط سے گریز کرنے پر زور دیتے ہوئے یورپی طرز کے قوانین کو جدت کے لیے رکاوٹ قرار دیا ہے۔
مسک نے امریکا میں مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کا بھی دفاع کیا، حالانکہ رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ملک میں ان مراکز کی تعمیر کے خلاف مخالفت بڑھ رہی ہے۔ وہ شمالی کیرولائنا میں ٹیکنالوجی پر مرکوز جی 20 اجلاس میں ورچوئل طور پر شریک ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھی اے آئی کے معاملے میں بڑی حد تک کم مداخلت کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور صنعت کو خود ضابطہ سازی کی طرف جانے دینا چاہتی ہے۔ اسی دوران کمپنیوں کے درمیان مصنوعی ذہانت میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ تیز ہوگئی ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مؤقف امریکا کو پیچھے اور غریب کردے گا اور اس سے حریف چین کو فائدہ پہنچے گا۔
چیپل ہل میں قائم یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے مقام پر ہونے والے اجلاس میں مسک نے کہا کہ اے آئی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز انتہائی ضروری ہیں کیونکہ اس شعبے کو توانائی کی کمی کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیٹا سینٹر بنانے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں اپنا منصفانہ حصہ ادا کرنا چاہیے۔
اجلاس میں فرانس، اٹلی اور جرمنی کے وزرا کے علاوہ یورپی یونین کی ٹیکنالوجی چیف ہینا ویرکونن بھی موجود تھیں۔ مسک نے یورپی یونین کے قوانین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی چیزوں کے لیے ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں انہیں ابتدا میں غیر قانونی سمجھنے کے بجائے قانونی سمجھا جائے۔
ان کے مطابق یورپی یونین میں ضابطوں کی سطح غیر معمولی حد تک بلند ہے، جہاں نئی ٹیکنالوجیز کے لیے چیزیں عموماً پہلے ہی غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ٹیکنالوجی کی ترقی رکتی تو نہیں لیکن نمایاں طور پر سست ضرور ہوجاتی ہے، تاہم یورپی حکام ان دلائل کو مسترد کرتے ہیں۔
چیپل ہل اجلاس وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کراٹسیوس اور وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک نے منظم کیا ہے۔ دو روزہ اجلاس میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین کی بدھ کو ذاتی طور پر شرکت متوقع تھی، جبکہ گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمنس ہسابیس اور میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ ورچوئل طور پر شریک ہونے تھے۔
کراٹسیوس اجلاس میں کیرولائنا پرنسپلز کی حمایت کر رہے ہیں، جس کے تحت حکومتوں پر زور دیا جاتا ہے کہ اے آئی کے استعمال کے لیے ضرورت سے زیادہ قوانین نہ بنائے جائیں۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اوپن اے آئی کے ماڈلز کی حالیہ آزمائش کے دوران خودکار اے آئی ایجنٹس نے انسانی نگرانی کے بغیر انٹرنیٹ پر جاکر ایک ویب سائٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس واقعے نے سلیکان ویلی میں تشویش پیدا کی، جبکہ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سمیت بعض شخصیات نے اے آئی کی نگرانی کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔
