اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق راولپنڈی میں منگل کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب اور شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی کے بعد راول ڈیم کے اسپِل ویز کھولنے کے فیصلے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈیم سے پانی کا اخراج شہر میں سیلاب کی شدت بڑھانے والے عوامل میں شامل رہا۔
شدید بارشوں کے باعث راول ڈیم پہلے ہی مکمل بھر چکا تھا، جس کے بعد منگل کو دن کے اوقات میں اس کے اسپِل ویز کھول دیے گئے۔ راول ڈیم اور نالہ کورنگ سے آنے والا پانی تیزی سے دریائے سواں میں جا پہنچا، تاہم اسی دوران راولپنڈی کی جانب سے نالہ لئی کا سیلابی پانی بھی دریائے سواں کی طرف بڑھ رہا تھا۔
راول ڈیم سے آنے والے پانی کی غیر معمولی مقدار کے باعث دریائے سواں فوری طور پر نالہ لئی سے آنے والے اضافی سیلابی پانی کو اپنے اندر سمو نہ سکا۔ نتیجتاً نالہ لئی کا پانی پیچھے کی جانب بیک اپ ہونے لگا اور اس صورتحال نے سیلابی پانی کے لیے شہر کی جانب راستہ کھول دیا۔
رپورٹ کے مطابق نالہ لئی کے علاوہ 15 دیگر برساتی نالوں کا پانی بھی مختلف علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے راولپنڈی کے اہم تجارتی مراکز، گنجان آبادیوں اور تاریخی تھوک مارکیٹوں میں شدید سیلاب آگیا۔
راجہ بازار، فوارہ چوک، موتی بازار، باڑہ بازار، ڈھنگی کھوئی چوک، جامع مسجد روڈ، کالج روڈ اور نیا محلہ سمیت متعدد علاقے زیر آب آگئے۔ پل شاہ نظر سے شہر کی گنجان آبادیوں اور تاریخی تھوک مارکیٹوں تک پانی پھیلنے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان اور تباہی ہوئی۔
شہری ایکشن کمیٹی کے صدر ملک ظہیر اعوان نے دعویٰ کیا کہ اگر راول ڈیم کے اسپِل ویز پیر کی رات یا منگل کو سہ پہر 3 بجے کے بعد کھولے جاتے تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی اور شہر کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا تھا۔
ملک ظہیر اعوان نے کہا،راولپنڈی شہر کو بچایا جا سکتا تھا۔ اسلام آباد کو راولپنڈی کو ڈبو کر بچایا گیا۔
