Visa is not a right, it is a privilege US prepares to cancel visas of up to 200,000 asylum seekers

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز خبر  کے مطابق امریکی حکومت نے ایسے غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے جو سیاحت یا کاروبار کے لیے امریکا پہنچنے کے بعد ملک میں مستقل قیام کی غرض سے پناہ کی درخواست دیتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام سے 2 لاکھ تک ویزے متاثر ہوسکتے ہیں۔ 

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو نئی پالیسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی نشاندہی کی جارہی ہے جنہوں نے عارضی قیام کے مقصد سے ویزا حاصل کیا لیکن بعد میں امریکا میں رہنے کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگٹ نے کہا کہ پناہ حاصل کرنے کے مقصد سے ویزا لینا فراڈ کے زمرے میں آتا ہے اور یہی ویزا منسوخ کیے جانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویزوں کی منسوخی کی تعداد مسلسل تبدیل ہوتی رہے گی اور کارروائی مرحلہ وار جاری رہے گی۔

وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ نئی کارروائی سے دو لاکھ تک ویزے متاثر ہوسکتے ہیں اور اسے امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی قرار دیا۔ تاہم محکمہ خارجہ نے اس تعداد کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید کی۔ ترجمان ٹومی پیگٹ نے کہا کہ ویزا کوئی حق نہیں بلکہ ’استحقاق‘ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تقریباً 1 لاکھ 75 ہزار غیرملکیوں کے ویزے مختلف وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کیے جاچکے ہیں۔ ان وجوہات میں مجرمانہ سرگرمیاں، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا اور بعض سیاسی یا سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ نے حال ہی میں میکسیکو کے بعض حکام کے ویزے بھی منسوخ کیے، جن میں سابق صدر آندرے مینوئل لوپیز اوبراڈور کا بیٹا بھی شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا، تاہم ان کی انتظامیہ قانونی طریقے سے امریکا آنے والے غیرملکیوں کی نگرانی بھی سخت کررہی ہے۔ حکومت ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہے جو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام جاری رکھتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ویزا درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مزید سخت جانچ کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ دوسری جانب بعض امیگریشن اقدامات کو امریکی عدالتوں میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ گزشتہ جمعہ ایک وفاقی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا میں مستقل سکونت کی غرض سے ویزا حاصل کرنے پر عائد حکومتی پابندی ختم کردی تھی۔

ان ممالک میں افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن بھی شامل تھے۔ نئی ویزا پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر امیگریشن حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکا میں داخلے، قیام اور پناہ کے نظام کی نگرانی مزید سخت کی جارہی ہے۔