اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے عمل میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی سامنے آگئی ہے، مقررہ آخری تاریخ تک مجموعی طور پر 11 ممکنہ سرمایہ کاروں نے اظہار دلچسپی جمع کرا دیا۔ نجکاری کمیشن کے مطابق سرمایہ کار گیپکو کے 51 فیصد سے 100 فیصد تک حصص حاصل کرنے کے ساتھ کمپنی کا انتظامی کنٹرول بھی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گیپکو کی نجکاری میں ترکیہ اور سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے علاوہ پاکستان کے کئی بڑے کاروباری گروپس بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران منعقد کیے گئے ملکی اور بین الاقوامی روڈ شوز میں سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ردعمل سے پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے امکانات پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ گیپکو کی نجکاری کے لیے سرمایہ کاروں کا مضبوط ردعمل ڈسکوز کے شعبے میں موجود صلاحیت اور حکومت کی جانب سے شفاف، مسابقتی اور پیشہ ورانہ طریقہ کار پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کمیشن پری کوالیفائی ہونے والے سرمایہ کاروں کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرے گا اور نجکاری کے بعد کمپنی کے انتظامی نظام کے خدوخال پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
محمد علی کے مطابق گیپکو کی نجکاری کا مقصد کمپنی کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، بجلی کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، صارفین کے لیے خدمات کا معیار بہتر کرنا اور بجلی کی ترسیل و تقسیم میں نقصانات کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں ان اقدامات سے پاور سیکٹر کو زیادہ مالی طور پر مستحکم بنانے، بجلی کی تقسیم کے شعبے میں مسابقت پیدا کرنے اور صارفین کو قابل اعتماد اور نسبتاً سستی بجلی کی فراہمی کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
نجکاری کمیشن کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے جمع کرائے گئے اظہار دلچسپی اور اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن کا منظور شدہ پری کوالیفکیشن معیار کے مطابق جامع جائزہ لیا جائے گا۔ مقررہ شرائط پوری کرنے والے سرمایہ کاروں کو اگلے مرحلے کے لیے پری کوالیفائی کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ وہاں سرمایہ کار گیپکو کی مالی، انتظامی اور آپریشنل صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے خریداری سے قبل ضروری جانچ پڑتال کا عمل مکمل کرسکیں گے۔
