اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا، جس پر تہران نے کسی بھی نئے امریکی خطرے کی صورت میں سخت، سزا دینے والے اور تباہ کن جواب کی دھمکی دے دی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق نئی پابندیوں کی تفصیلات پیر کو سامنے لائی جائیں گی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی قسم کی معاشی سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو بھی سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایران کی فوج زمین، سمندر، فضا، فضائی دفاع اور سائبر شعبے میں مکمل تیاری رکھتی ہے اور دشمن کے نئے خطرات کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ واشنگٹن شاید اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ براہ راست فوجی تصادم میں ایران کو شکست دینا ممکن نہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ معاشی دباؤ شدید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام بھوکے ہوں، مالی گردش، معاشی ترقی اور قومی پیداوار متاثر ہو تو صرف فوجی طاقت کے ذریعے ملک کو نہیں چلایا جاسکتا۔
نئی امریکی پابندیوں کی دھمکی کے بعد جمعہ کو عالمی اور امریکی خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا اس حکومت کو ختم کرنے کے لیے معاشی دباؤ بڑھائے گا۔ ایران 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد تقریباً پانچ دہائیوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں مہنگائی، کمزور کرنسی، توانائی کی قلت اور تباہ شدہ انفرااسٹرکچر نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے چین پر بھی ایران کے خلاف دباؤ میں شامل ہونے پر زور دیا، تاہم بیجنگ نے واضح کیا کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلے کا حل نہیں اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ کلیپر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ چین خریدتا ہے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک بھی صورتحال سے متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ بعض توانائی تنصیبات اور ڈی سیلینیشن پلانٹس ایرانی حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔
