Israel issues stern warning to Turkey, calls for avoiding dangerous adventures in Syria

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق شام کے ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کے دو روز بعد اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان شام میں فوجی سرگرمیوں پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ 

اسرائیل نے ترکیہ پر شام میں خطرناک مہم جوئی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کو خبردار کیا ہے، جبکہ انقرہ نے اسرائیل سے بے احتیاط حملے روکنے اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے منگل کو ابو الظہور ایئربیس پر بمباری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں ترک فوجیوں کی تعیناتی ہونے والی تھی، تاہم ترکیہ نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیل کے مطابق دمشق ابو الظہور ایئربیس پر ترک فوجیوں کو تعینات کرنے کے قریب تھا اور اسرائیلی حکومت نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ ایسی تعیناتی اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل کو واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ ابو الظہور میں ترک فوجی اڈہ قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کے مطابق ترک فوجی افسران حملے سے چند روز قبل ایئربیس پر گئے تھے، تاہم یہ دورہ فوجی تربیت اور تجربات کے تبادلے کے لیے جاری تعاون کا حصہ تھا۔

ترکیہ کی وزارت دفاع نے بھی واضح کیا کہ حملے سے قبل یا حملے کے دوران ایئربیس پر کوئی ترک فوجی وفد موجود نہیں تھا۔ وزارت نے کہا کہ ترکیہ شام کی اپنی فوجی صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ شام اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل ایسے بے احتیاط حملے بند کرے اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کی پابندی کرے۔

ذرائع کے مطابق شام میں ممکنہ ترک فوجی تعیناتی کا معاملہ 14 اگست کو شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین کے درمیان ہونے والی ایک غیر معمولی ٹیلی فونک گفتگو میں بھی زیر بحث آیا تھا۔

 اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ترک صدر اردوان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کو شام میں خطرناک مہم جوئی میں گھسیٹنے یا اسرائیل کے عزم کو آزمانے سے گریز کیا جائے۔