Pakistan's request for $10 billion exchange facility awaits US decision

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست پر ستمبر میں فیصلے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرکے طویل مدتی اور مارکیٹ پر مبنی فنانسنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی محکمہ خزانہ کے پاس پاکستان کی 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست زیر غور ہے اور حکومت کو ستمبر تک فیصلے کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پاکستان امریکا سے کسی روایتی قرض یا کریڈٹ لائن کے لیے مذاکرات نہیں کررہا، بلکہ مجوزہ سہولت کا مقصد ملکی کرنسی اور ایکسچینج ریٹ میں استحکام لانا ہے۔ ان کے مطابق یہ انتظام پاکستان کی طویل مدتی فنانسنگ تک رسائی کی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پانچ، سات اور 10 سال کی مدت والی مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ پر توجہ دے رہی ہے اور مستقبل میں یورو بانڈز اور اسلامی سکوک جیسے ذرائع سے زیادہ استفادہ کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد بتدریج دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرکے مارکیٹ سے طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ بھی کام کررہا ہے تاکہ ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو موجودہ B سے B+ تک بہتر بنایا جاسکے۔ ان کے مطابق پاکستان 2004 میں بھی B+ ریٹنگ حاصل کرچکا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مجوزہ مالی انتظام کے حوالے سے وہ پرامید ہیں، تاہم حتمی معاہدے سے قبل کچھ معاملات پر مزید پیش رفت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوطرفہ قرضوں کی میچورٹی بڑھانے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے اور حکومت 10 سال تک کی مدت حاصل کرنے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور دیگر امریکی اداروں کے ساتھ بھی فنانسنگ انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ دوسری جانب چین کے ساتھ 1.3 ارب ڈالر کی کمرشل ری فنانسنگ پر بات چیت جاری ہے اور حکومت کو توقع ہے کہ یہ عمل جلد مکمل ہوجائے گا۔

اس سے قبل محمد اورنگزیب نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں چھوٹے دکانداروں کے لیے آسان فکسڈ ٹیکس اسکیم کی ایپ بھی متعارف کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن کا عمل بھی آسان بنانے پر کام کررہی ہے۔

وزیر خزانہ نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو خبردار کیا کہ انہیں نئی فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم یا معمول کے ٹیکس نظام میں شامل ہونا ہوگا، بصورت دیگر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

ایف بی آر حکام کے مطابق نئی ایپ تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور اس کے ذریعے ٹیکس نیٹ سے باہر موجود دکاندار بھی فائلر بن سکیں گے اور موبائل فون کے ذریعے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کرا سکیں گے۔