اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز یروشلم کے قریب واقع قلندیہ پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 20 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے آٹھ افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب علاقے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی آبادی کو بے دخلی کے خدشات لاحق ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج کے تقریباً ایک درجن بکتر بند فوجی گاڑیاں قلندیہ کیمپ میں داخل ہوئیں، جبکہ فوجیوں نے صحافیوں اور مقامی رہائشیوں کو کیمپ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ کارروائی کے دوران مختلف داخلی راستوں کو مکمل طور پر بند رکھا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز مطلوب افراد کی گرفتاری اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے آپریشن کر رہی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزارت دفاع کے فلسطینی علاقوں سے متعلق ادارے نے عربی زبان میں جاری بیان میں کہا کہ کارروائی کا مقصد دہشت گرد عناصر، دہشت گردی کے انفراسٹرکچر اور اسلحے کی ذخیرہ اندوزی و اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل قلندیہ کیمپ کو دہشت گردوں یا جرائم پیشہ عناصر کی محفوظ پناہ گاہ بننے کی اجازت نہیں دے گا، جیسا کہ وہ مغربی کنارے کے دیگر پناہ گزین کیمپوں میں بھی نہیں دیتا۔
دوسری جانب قلندیہ کیمپ کی انتظامی کمیٹی کے ترجمان محمد اسلان نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے کم از کم 20 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ متعدد فوجیوں نے رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ان کے مطابق کارروائی کے دوران کئی گھروں کی تلاشی بھی لی گئی۔
یروشلم گورنریٹ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیمپ کی گلیوں میں ملبہ اور بڑے پتھر ڈال کر راستے بند کر دیے گئے، جبکہ ایک مکان کے اندر فرنیچر اور گھریلو سامان بکھرا ہوا تھا، جس سے کارروائی کے دوران ہونے والے نقصان کا اندازہ ہوتا ہے۔
فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق کارروائی کے دوران زخمی ہونے والے آٹھ فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم زخمیوں کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
