اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نئے انتظامات سے متعلق ایک اہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک شپنگ روٹ کے جغرافیائی حدود پر بنیادی اتفاقِ رائے تک پہنچ چکے ہیں اور اگر کسی تیسرے فریق کی جانب سے مداخلت نہ ہوئی تو مشترکہ اعلان جلد جاری کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والا یہ سمجھوتہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے تعین سے متعلق ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف اس معاہدے سے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی مکمل سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے تجارتی جہاز ایرانی علاقائی پانیوں سے گزریں گے، جس سے تہران کو اس اہم بحری راستے پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے اور دو علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اس اصول پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعض حساس نکات ابھی طے ہونا باقی ہیں، خصوصاً خلیج سے باہر جانے والے جہازوں پر ایران کے کردار سے متعلق۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات بنیادی مفاہمت تک پہنچ چکے ہیں اور ایسا انتظام وضع کیا جا رہا ہے جس کے تحت تجارتی جہاز دونوں سمتوں میں ایرانی پانیوں سے گزریں گے۔ ان کے مطابق معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں سے سامان کی مالیت کے حساب سے 5 سے 7 فیصد تک فیس لینے کی تجویز دے رہا ہے، جبکہ عمان تقریباً 3 فیصد رضاکارانہ فیس کی حمایت کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کسی بھی قسم کی لازمی فیس کے حق میں نہیں ہے۔ علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق فیس کو رضاکارانہ قرار دینا فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کا ممکنہ حل ہو سکتا ہے۔
غریب آبادی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کو امریکا کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں جون کے وسط میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں دوبارہ پوری کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ صرف یہ یقین دہانی آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کافی نہیں اور حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور آبنائے ہرمز بہت جلد کھل سکتی ہے۔ تاہم ایرانی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات ابھی نازک مرحلے میں ہیں اور کسی بھی غیر متوقع سیاسی بیان یا پیش رفت سے پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ عالمی ادارے کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم اقوام متحدہ تمام فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اس تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔
اسی دوران یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی آئل ٹینکروں پر میزائل حملوں کا دعویٰ بھی کیا ہے، اگرچہ سعودی عرب نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
