اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کے دوران سعودی عرب کے معروف فالکن وژن گروپ نے مختلف شعبوں میں 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حکومت نے سعودی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ سے ایک اعلیٰ سطحی سعودی وفد نے ملاقات کی، جس میں کاروباری شخصیات، اوورسیز پاکستانی اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ وفد کی قیادت جدہ میں قائم فالکن وژن کمپنی کے نائب چیئرمین اور صدر محمد طارق غوث نے کی۔
ملاقات کے دوران محمد طارق غوث نے بتایا کہ فالکن وژن گروپ انفراسٹرکچر، تعمیرات، ٹیکنالوجی اور دیگر صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور پاکستان میں بھی مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان میں دستیاب مواقع کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ابتدائی طور پر مختلف شعبوں کے لیے 10 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری مختص کی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اس پیش رفت کو پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کار دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملکی معیشت میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو 2035 تک انکم ٹیکس سے استثنا، مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی میں رعایت اور دیگر مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کے ذریعے رجسٹریشن، لائسنسنگ اور دیگر تمام مراحل ایک ہی جگہ مکمل کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
قیصر احمد شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں 100 فیصد منافع بیرون ملک منتقل کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے اخراجات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وفد کے رکن مقبول نے J7 ایمپوریم سمیت رئیل اسٹیٹ منصوبوں اور اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام سے متعلق تجاویز پیش کیں، جبکہ کرنل جمشید نے چکوال میں جدید شاپنگ مال کے مشترکہ منصوبے سے آگاہ کیا۔
