US attacks on Iranian military targets, Iran claims to have targeted US base
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ہفتے کے اختتام پر ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک امریکی ایم کیو -۱ ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد کی گئی، جو ان کے بقول بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول اسٹیشن اور دو حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ خطے میں اپنے فوجی اثاثوں اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران پر حملے میں استعمال ہونے والے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے حملے کی جگہ یا ممکنہ نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اسی دوران کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک میں متعدد مقامات پر خطرے کے سائرن بجائے گئے جبکہ فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ کویتی حکام نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اپریل کے آغاز میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان وقفے وقفے سے فوجی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف محدود نوعیت کی کارروائیوں کی تصدیق کی تھی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور مذاکرات بالآخر مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات پر تنقید کرنے والوں کو صبر کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔



