اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے برکس ممالک کے لیے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا زون قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے بڑے لینگویج ماڈلز، اے آئی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑھانے کا منصوبہ پیش کردیا۔
نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے اوپن سورس اور جامع اے آئی اقدام کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت چین برکس اے آئی اوپن سورس کمیونٹی کے قیام میں قیادت کرے گا۔
چین بڑے لینگویج ماڈلز کی تیاری اور ان کے عملی استعمال میں تعاون کے ساتھ خصوصی اے آئی سیمینارز اور تربیتی کورسز بھی منعقد کرے گا۔
چینی صدر کے مطابق مقصد ایک ایسا ’اوپن ایکو سسٹم‘ تشکیل دینا ہے جس میں برکس ممالک مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال میں مل کر آگے بڑھیں اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے چند کمپنیوں یا ممالک پر انحصار کم ہو۔
چین کےکوین، ڈیپ سیک، کیمی اور جی ایل ایم جیسے اوپن سورس ماڈلز عالمی جنوب کے ممالک میں پہلے ہی توجہ حاصل کررہے ہیں اور انہیں مزید عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے ریاستی تعاون ملنے کی توقع ہے۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست میں طاقت کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ جدید اے آئی ماڈلز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا اور ماہر افرادی قوت تک رسائی ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں بنیادی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔
شی جن پنگ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ اے آئی کے فوائد صرف چند ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی اے آئی گورننس کے لیے وسیع اتفاق رائے پر مبنی فریم ورک تشکیل دینے میں کردار ادا کریں۔
چین نے برکس تعاون کے لیے اے آئی کے علاوہ خصوصی اقتصادی زون پارٹنرشپ، ڈیجیٹل ایکو سسٹم کلاؤڈ پلیٹ فارم، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور انجینئر ٹریننگ الائنس سمیت دیگر اقدامات بھی تجویز کیے ہیں۔
برکس اب برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے ابتدائی پانچ ممالک تک محدود نہیں رہا۔ ایران، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی گروپ میں شامل ہیں، جبکہ مزید 10 ممالک کو پارٹنر کا درجہ حاصل ہے۔
چین کی اے آئی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن بھی ہے۔
شی جن پنگ نے 17 جولائی 2026 کو شنگھائی میں ورلڈ اے آئی کانفرنس کے دوران تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ 29 ممالک نے معاہدے پر بانی ارکان کی حیثیت سے دستخط کیے۔
وائیکو کا ہیڈکوارٹر شنگھائی میں ہوگا اور تنظیم کو تمام ممالک کے لیے کھلا رکھنے کی بات کی گئی ہے، بالخصوص عالمی جنوب کے ممالک کی اے آئی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
چین نے آئندہ پانچ برس میں ترقی پذیر ممالک کو اے آئی تربیت اور سیمینارز کے 5,000 مواقع فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
یوں برکس کا اوپن سورس اے آئی منصوبہ اور وائیکو چین کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں جس کے ذریعے بیجنگ مصنوعی ذہانت کے فوائد کو وسیع کرنے اور جدید ٹیکنالوجی پر چند مغربی کمپنیوں اور ممالک کے غلبے کو چیلنج کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
