US mobilizes over Lebanon tensions, Trump advises Israel to exercise restraint
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے لبنان میں فوجی کشیدگی مزید بڑھانے سے گریز کرنے پر زور دیا، جس کے بعد بیروت پر ممکنہ بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کر دیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکا ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو متاثر ہونے سے بچانا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید وسیع کارروائیوں پر غور کر رہا تھا، تاہم امریکی مداخلت کے بعد صورتحال میں نرمی آئی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو میں لبنان میں کشیدگی کم رکھنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں امریکی صدر نے اس رابطے کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کی صورت میں اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر بیروت میں کسی بڑے فوجی آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی انتظامیہ اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی حالیہ دنوں میں اسرائیلی اور لبنانی قیادت سے رابطے کر چکے ہیں، جبکہ واشنگٹن مرحلہ وار کشیدگی میں کمی کے مختلف آپشنز پر کام کر رہا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکا خطے میں کسی نئی بڑی جنگ سے گریز چاہتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران سے متعلق سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اسی تناظر میں واشنگٹن لبنان محاذ پر صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لبنان میں حالیہ مہینوں کے دوران سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام اور جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات برقرار ہیں۔ تاہم امریکی سفارتی سرگرمیوں کو کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔




