Thousands of Starlink devices smuggled into Iran, claims former Israeli prime minister

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں ایران کے اندر خفیہ طور پر ہزاروں اسٹارلنک انٹرنیٹ ریسیورز پہنچانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا تاکہ حکومت مخالف مظاہرین کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک مسلسل رسائی فراہم کی جا سکے۔

یروشلم میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بینیٹ نے کہا کہ ان کی حکومت نے دسیوں ہزار اسٹارلنک ریسیورز حاصل کرکے ایران منتقل کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایرانی مظاہرین کو رابطے میں رکھنا، معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانا اور احتجاجی سرگرمیوں کو منظم بنانے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

بینیٹ نے کہا کہ بعد میں آنے والی بنیامین نیتن یاہو حکومت نے اس منصوبے کو جاری نہیں رکھا، جس کے باعث ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مطلوبہ مواصلاتی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو ایران میں حکومت مخالف تحریک کو مزید تقویت مل سکتی تھی۔

اسٹارلنک، جو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی ملکیت ہے، سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سروس فراہم کرتا ہے۔ ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکا پر ایسے آلات ملک میں داخل کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم کسی سابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے اس نوعیت کا اعتراف پہلی بار سامنے آیا ہے۔

بینیٹ نے مزید کہا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر اقدامات بھی اختیار کریں گے، جن میں معاشی اور صنعتی سطح پر کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔