اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مختلف مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل کے ساتھ کینیڈا کے مبینہ امتیازی تجارتی رویے کے جواب میں کیا گیا ہے، جبکہ تجزیہ کار اسے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ اقدام ٹیرف ایکٹ 1930 کے سیکشن 338 کے تحت کیا، جو امریکی صدر کو ایسے ممالک پر 50 فیصد تک تعزیری ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے جو امریکی مصنوعات کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کریں۔ یہ تقریباً ایک صدی پرانے اس قانون کے تحت کسی امریکی صدر کی جانب سے اختیار کے استعمال کا پہلا معروف واقعہ ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ امریکا اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ منصفانہ اور باہمی بنیادوں پر تجارت کا خواہاں ہے، تاہم کینیڈا مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو امریکی صنعت اور برآمدات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق نئی درآمدی ڈیوٹیاں امریکی صنعت کے تحفظ اور تجارتی توازن بحال کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
یہ نئے ٹیرف 19 اگست سے نافذ ہوں گے اور ان کا اطلاق شراب، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، فرنیچر، سوئمنگ پول، آئس ہاکی کے سامان، کپڑوں، بیج، ماہی گیری کے آلات، وِگ اور دیگر متعدد مصنوعات پر ہوگا۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق یہ محصولات تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر لاگو ہوں گے، جو 2025 میں امریکا کی جانب سے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی 382 ارب ڈالر کی مجموعی اشیا کا تقریباً 5.2 فیصد بنتی ہیں۔
دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تجارتی تنازعات کے حل کے لیے پہلے ہی واشنگٹن کو جامع تجاویز پیش کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف امریکا، میکسیکو اور کینیڈا تجارتی معاہدے کی روح کے خلاف تھے، جبکہ کینیڈا نے صرف انہی اقدامات کا متناسب جواب دیا۔
وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کینیڈا میں امریکی گاڑیوں کی درآمد 22 فیصد جبکہ امریکی الکوحل کی فروخت 81 فیصد تک کم ہوئی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کی ڈیری سپلائی مینجمنٹ پالیسی، درآمدی کوٹے اور بعض صوبوں میں امریکی الکوحل کی فروخت پر پابندی نے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
