Tehran’s new proposal to open the Strait of Hormuz; a path contingent upon Washington’s consent.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں کے اندر دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی ہے۔

 تہران کا کہنا ہے کہ اس کے مطالبات میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، امریکی بندرگاہی ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل کی فروخت سے متعلق رعایتیں اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے اپنے مطالبات پر مشتمل پہلے سے پیش کردہ سات نکاتی منصوبے کو مختصر کرکے نئی تجاویز کی شکل دی ہے۔

 ان میں حالیہ پابندیوں کی منسوخی، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی اور ایران و عمان کے درمیان ایک نئے بحری راستے کے انتظامات بھی شامل ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سفارتی رابطوں اور مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے، تاہم کسی معاہدے کا انحصار واشنگٹن کی سیاسی دانش مندی پر ہوگا۔ قطر اور پاکستان بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکرات اور موجودہ صورتحال سے متعلق فیصلے کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔ قطر میں ہونے والی بات چیت کے دوران ایران نے اپنی تجاویز میں تبدیلیاں کیں، تاہم کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

 ایرانی مذاکرات کار اتوار کو قطر سے روانہ ہوئے، لیکن تہران نے واضح کیا کہ ان کی روانگی کسی تنازع یا مذاکراتی دشواری کے باعث نہیں تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ تیل کی قیمت تقریباً 10 ڈالر فی بیرل کم ہو چکی ہے اور جنگ نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے معاہدے کی امید ظاہر کی۔ امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتیں ری پبلکنز کے لیے سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق تہران میں معاہدے کے امکانات کے باوجود امریکی حملے کا خدشہ برقرار ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے عمان کے سلطان سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کہا کہ خلیج مشرقِ وسطیٰ کو بڑی طاقتوں کے مقابلے کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

 چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے سعودی عرب اور ایران کے نمائندوں سے بھی رابطے کیے اور ایران کی خودمختاری و سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا۔

ادھر روسی قیادت نے بھی ایرانی حکام سے رابطے کیے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزروعی نے قطر کے ایل این جی ٹینکر پر حملے کے بعد کہا کہ جنگ کی صورتحال غیر یقینی ہے اور امارات پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے۔