South Korea refuses to join Iran war, Trump reduces military exercises

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ٹرمپ نے یہ فیصلہ مشقوں کے اخراجات اور ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں جنوبی کوریا کی عدم شرکت کو جواز بناتے ہوئے کیا۔

ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ 10 روزہ مشترکہ فوجی مشقیں مکمل طور پر منسوخ کرنے میں اب بہت دیر ہوچکی ہے، تاہم وہ اس بات پر خوش نہیں کہ امریکا نے ان میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

انہوں نے لکھا کہ یہ مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ ایک ایسے ملک کو نامناسب اور دشمنانہ پیغام بھیجتی ہیں جو ان کے صدر بننے کے بعد سے بقول ان کے امریکا کے لیے خطرہ نہیں بنا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

سالانہ الچی فریڈم شیلڈ فوجی مشقیں 17 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی ہیں، جن میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے تصدیق کی کہ مشقیں پیر کو طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہوگئیں۔

حکام کے مطابق اس سال کی مشقوں میں ڈرونز کے خلاف کارروائی، جی پی ایس سگنلز میں خلل ڈالنے اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی تربیت شامل ہے، کیونکہ شمالی کوریا کی فوجی صلاحیتوں میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔

جنوبی کوریا کے صدارتی بلیو ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے بیان کا جائزہ لے رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان بہتر تعلقات بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ سیئول نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی تعاون اور مشترکہ فوجی مشقوں کے معاملات پر واشنگٹن سے سفارتی رابطے جاری رکھے گا۔

ٹرمپ طویل عرصے سے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کو مہنگا اور اشتعال انگیز قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کے پہلے دورِ صدارت میں بھی ان مشقوں کو محدود یا ختم کرنے کی بات سامنے آتی رہی تھی۔ امریکا کے تقریباً 28,500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات ہیں، جبکہ واشنگٹن اور سیئول کے درمیان ان فوجیوں کے اخراجات میں جنوبی کوریا کے حصے پر بھی ماضی میں اختلافات رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں جنوبی کوریا کے ایران کے خلاف امریکی کوششوں میں شامل نہ ہونے کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے بقول انہوں نے جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوشش میں شامل ہونا چاہتے ہیں، جس پر جنوبی کوریا کا جواب نہیں شکریہ تھا۔