اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی نوجوانوں کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کا رات گئے تک استعمال اب ماضی کی بات بننے جا رہا ہے، کیونکہ میٹا نے تقریباً تمام امریکی ریاستوں کے ساتھ طے پانے والے ایک بڑے تصفیے کے تحت نوعمر صارفین کے لیے رات کے اوقات میں پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے اور روزانہ استعمال کی حد مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی پابندیوں کے نتیجے میں امریکی نوجوانوں کے لیے میٹا کی سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے کے معمول میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
یہ تصفیہ ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ بچے اور نوجوان ان پلیٹ فارمز پر زیادہ وقت گزاریں، جبکہ کمپنی پر عوام کو سوشل میڈیا کے خطرات کے بارے میں گمراہ کرنے اور 13 سال سے کم عمر بچوں کا ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر جمع کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ میٹا نے ان الزامات میں کسی غلط کام کا اعتراف نہیں کیا تاہم نئی پابندیوں پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
معاہدے کے تحت میٹا آئندہ 10 برس کے دوران مجموعی طور پر 18 ارب ڈالر تک ادا کرے گا۔ اس رقم میں 47 امریکی ریاستوں اور کئی امریکی علاقوں کو دی جانے والی 16.7 ارب ڈالر تک کی رقم شامل ہے، جبکہ ٹیکساس کے ساتھ الگ معاہدے کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اتنی بڑی مالی رقم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی حکام بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق خدشات کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
نوجوان صارفین پر اس معاہدے کا براہ راست اثر وقت کی پابندیوں کی صورت میں سامنے آئے گا۔ آئندہ چھ ماہ کے اندر نوعمر اکاؤنٹس کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک فیس بک اور انسٹاگرام پر بطور ڈیفالٹ رسائی سے روک دیا جائے گا، تاہم والدین کو اس پابندی میں تبدیلی کی اجازت ہوگی۔
رات کے اوقات میں میسجنگ اور بعض سیٹنگز مکمل طور پر ختم نہیں کی جائیں گی، تاہم ان کی سہولت محدود ہوگی تاکہ نوجوان ان کے ذریعے پلیٹ فارم کے دیگر حصوں تک رسائی حاصل نہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ رات 10 بجے سے صبح 7 بجے تک پش نوٹیفکیشن بھی بند رہیں گے۔
دن کے وقت بھی نوعمر صارفین کے لیے استعمال کی ایک حد مقرر ہوگی۔ فیس بک اور انسٹاگرام سمیت میٹا کی ایپس پر مجموعی استعمال کا وقت روزانہ دو گھنٹے ہوگا اور یہ وقت ہر روز نصف شب کو دوبارہ شروع ہوگا۔ تاہم میسجنگ اور طویل دورانیے کی ویڈیوز اس دو گھنٹے کی حد میں شامل نہیں ہوں گی۔ والدین پابندیوں میں تبدیلی کی منظوری دے سکیں گے، لیکن نوجوان خود مقررہ حدود کو تبدیل نہیں کرسکیں گے۔
