Plan to evacuate Gaza Israeli ministers' statements increase fear among Palestinians

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق اسرائیلی حکومت کے دو اہم وزرا نے غزہ سے فلسطینی آبادی کی بڑے پیمانے پر منتقلی کی تجاویز پیش کردی ہیں، جس کے بعد فلسطینیوں میں ایک بار پھر جبری بے دخلی کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

یہ مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادی انتخابی مہم کے دوران اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کے سیکیورٹی وزیر اتمار بن گویر نے جمعرات کی رات پریس کانفرنس میں غزہ کی آبادی کو ’رضاکارانہ ہجرت‘ کے ذریعے منتقل کرنے کے لیے سات سالہ منصوبہ پیش کیا۔

بن گویر نے کہا کہ وہ آئندہ حکومت میں ’ہجرت کی وزارت‘ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کی یہودی طاقت پارٹی کے مطابق ترکیہ، ایتھوپیا اور جمہوریہ کانگو کو فلسطینیوں کی ممکنہ منتقلی کے لیے منزلوں کے طور پر زیر غور لایا جارہا ہے۔

غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے اسرائیلی تجاویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ایسی دھمکیوں سے انہیں خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔

بن گویر کے بیان سے ایک روز قبل اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی کہا تھا کہ غزہ کا ’آخرکار کوئی حقیقی حل‘ فلسطینیوں کی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

ایک آن لائن کانفرنس میں کاٹز نے کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو اسرائیل فلسطینیوں کو سمندر، فضائی راستے یا ’ہر ممکن طریقے‘ سے منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مصر اس عمل کے لیے تیار نہیں، اس لیے منتقلی مصر کے ذریعے نہیں ہوگی۔

نیتن یاہو کے دفتر نے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

2025 میں اسرائیلی وزارت دفاع نے غزہ سے ’رضاکارانہ ہجرت‘ کی نگرانی کے لیے ایک دفتر قائم کیا تھا۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غزہ کے فلسطینیوں کو مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم عرب ممالک کی شدید مخالفت اور عالمی سطح پر مسترد کیے جانے کے بعد وہ اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

اسرائیل نے مبینہ طور پر متعدد افریقی ممالک سے ممکنہ آبادکاری کے مقامات کے حوالے سے رابطے کیے۔ نیتن یاہو ’رضاکارانہ ہجرت‘ کی حمایت کرتے ہیں، تاہم غزہ میں دوبارہ یہودی بستیاں قائم کرنے کے بعض انتہائی دائیں بازو کے مطالبات کو غیرحقیقی قرار دے چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام جبری منتقلی کے ارادے کی تردید کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ انہیں ایک نئی نکبہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ 1948 کی جنگ کے دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے فرار ہوئے یا بے دخل کیے گئے تھے۔

ادھر بن گویر نے اسی ہفتے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں فلسطینی قیدیوں کو جیل میں داخل ہوتے اور انتہائی کمزور حالت میں باہر نکلتے دکھایا گیا۔ ویڈیو لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی، تاہم بعد میں اسے حذف کردیا گیا۔