Palestinian children were deliberately targeted, UN commission of inquiry reports

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) یو این نیوز اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و انسانی نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں کم از کم 20 ہزار فلسطینی بچے جاں بحق جبکہ 44 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ جنگ، بمباری، جبری نقل مکانی، بھوک، صحت اور تعلیم کے نظام کی تباہی نے فلسطینی بچوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

کمیشن کے سربراہ سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے حالات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی بچوں کو حراست میں لے کر تشدد، بدسلوکی اور بعض صورتوں میں جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کمیشن نے کہا کہ ایسے اقدامات بچوں کے خلاف اجتماعی سزا اور جبر کے وسیع تر نظام کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں غزہ کے اسپتالوں، زچہ و بچہ مراکز، یتیم خانوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق ان اقدامات نے فلسطینی معاشرے کے مستقبل، نئی نسل کی تعلیم اور سماجی ترقی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی بچوں کے خلاف تمام مبینہ خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے اور بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہی کو یقینی بنائے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔