North Korea issues major warning before US, South Korea war drills begin

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کی آئندہ مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئے خطرے کا جواب نئی سطح کے دفاعی اقدام کے ذریعے دے سکتا ہے۔

11 روزہ مشترکہ فوجی مشقیں پیر سے شروع ہوں گی۔ یہ مشقیں ہر سال موسم گرما میں منعقد ہوتی ہیں اور ان کا مقصد امریکا اور جنوبی کوریا کی افواج کو شمالی کوریا کے خلاف ممکنہ جنگ کے لیے تیار کرنا ہے۔

پیانگ یانگ طویل عرصے سے ان مشقوں کو اپنے خلاف حملے کی مشق قرار دیتا آیا ہے۔ رواں ہفتے شمالی کوریا نے بحیرۂ جاپان کی جانب ایک بیلسٹک میزائل بھی داغا، جسے مشقوں کے خلاف احتجاج کے طور پر دیکھا گیا۔

اس سال کی مشقوں میں روس اور یوکرین کی جنگ سے حاصل ہونے والے جدید جنگی تجربات کو خاص طور پر مدنظر رکھا جارہا ہے۔ فوجیوں کو ڈرون حملوں، سائبر وارفیئر اور جی پی ایس جامنگ سمیت جدید جنگی صلاحیتوں سے نمٹنے کی تربیت دی جائے گی۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے رواں سال کی مشقوں کو گزشتہ پانچ برس کی مشقوں سے مختلف قرار دیا ہے اور جدید جنگ کے نئے پہلوؤں کے مطابق جنگ لڑنے کی صلاحیت حاصل کرنا ان کا اہم مقصد ہے۔

ترجمان نے کہا، نئے خطرے کا جواب نئی سطح کے دفاعی اقدام سے دینا ہماری مستقل اصولی پالیسی ہے۔

یوکرین نے رواں ہفتے الزام عائد کیا کہ روس نے ایک حملے میں شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ کیف نے حال ہی میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ 50 ہزار تک شمالی کوریائی فوجی روس بھیجے جاسکتے ہیں، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج کے ترجمان کرنل ریان ڈونلڈ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں شمالی کوریا کی شرکت نے جزیرہ نما کوریا پر ممکنہ خطرے کی نوعیت تبدیل کردی ہے۔ ان کے مطابق شمالی کوریا اپنے فوجیوں کو یورپی جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات منتقل کررہا ہے اور اتحادی افواج نے اپنی تربیت میں اس خطرے کو شامل کرلیا ہے۔

الچی فریڈم شیلڈ کے نام سے ہونے والی مشقوں میں جنوبی کوریا کے تقریباً 18 ہزار فوجی جبکہ ملک میں موجود 28,500 امریکی فوجی اہلکاروں کا حصہ بھی شامل ہوگا۔