New Israeli settlements in the West Bank, strong reaction from Palestinian leadership
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 2,162 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جس پر فلسطینی قیادت نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ کے مطابق منصوبہ بندی کمیٹی نے تین مختلف یہودی بستیوں میں نئی تعمیرات کی منظوری دی ہے۔ ان میں یروشلم کے قریب قائم کی جانے والی نئی بستی میں 1,006، نابلس کے قریب 922 اور الخلیل کے قریب 234 رہائشی یونٹس شامل ہیں۔
سموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل اپنی موجودگی اور کنٹرول کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ منصوبے سکیورٹی کو بہتر بنانے اور زمینی حقائق کو مستحکم کرنے میں مدد دیں گے۔ تاہم تعمیراتی کام کے آغاز کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی فیصلے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی اور تشدد کو جنم دے سکتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آبادکاری کی تمام سرگرمیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں اور ان سے خطے میں امن کے امکانات مزید کمزور ہوں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً پانچ لاکھ اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ وہاں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اسرائیلی حکومت حالیہ برسوں میں مغربی کنارے میں آبادکاری کے منصوبوں میں مسلسل اضافہ کرتی رہی ہے، جس پر فلسطینی قیادت اور متعدد عالمی طاقتیں تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔
فلسطینی حکام نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ 1967 کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔



