Negotiations between Washington and Tehran are at a standstill, Trump sets new conditions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی حتمی امن معاہدے سے قبل نہ ایرانی اثاثے غیر منجمد کیے جائیں گے اور نہ ہی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات صرف معاہدے کے بعد زیر غور آئیں گے۔
این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مثبت رویہ اختیار کرتا ہے تو معاہدے کے بعد پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملے پر پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی قلیل مدتی معاہدے میں لبنان کی شمولیت کو لازمی شرط نہیں سمجھتے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران معاہدے کے قریب ہیں، تاہم خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، جو جنگ کے آغاز میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔
دوسری جانب رائٹرز نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا ایران کے اثاثوں کو خلیجی اتحادی ممالک میں جنگی نقصانات کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے متعلقہ اداروں کو نقصانات کا تخمینہ لگانے اور ممکنہ مالی ذرائع کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں امریکا میں منجمد تقریباً 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی بحالی اہم شرط ہے۔
ادھر خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کے پیش نظر ایران کے گورک اور جزیرہ قشم میں واقع بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ متعدد ایرانی ڈرون بھی مار گرائے گئے۔ اس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
کویت کی فوج کے مطابق سات بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ دونوں ممالک نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔




