اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ووٹر رجسٹریشن ریکارڈ کی جانچ تیز کر دی ہے۔ وفاقی حکام امیگریشن ڈیٹا بیس، تفتیشی اداروں اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا تجزیے کے ذریعے ایسے افراد کی نشاندہی کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ امریکی شہری نہ ہونے کے باوجود ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ اس مہم پر وفاقی حکومت اور 17 ریاستوں کے درمیان تنازع پیدا ہو چکا ہے۔
ڈان کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں کیلیفورنیا کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس میں 20 ہزار سے زائد ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جنہیں حکام کے مطابق ممکنہ طور پر غیر شہری ہونے کے باوجود ووٹ کے لیے رجسٹر کیا گیا۔ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ ان افراد کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹ شہریت کی تصدیق ہونے تک الگ رکھے جائیں۔
یہ تنازع انتخابی سیاست کے لیے اہم ہے، کیونکہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا رجحان ڈیموکریٹ ووٹرز میں زیادہ رہا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 2024 کے انتخابی تجزیے کے مطابق ڈیموکریٹ ووٹرز میں سے 44 فیصد نے ڈاک یا غیرحاضری کے ووٹ کے ذریعے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح 26 فیصد تھی۔
ڈیموکریسی فارورڈ نامی تنظیم نے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کردہ 166 صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے تحقیقاتی شعبے، ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز، نے ایسے ذرائع سے 4 کروڑ 84 لاکھ ریکارڈ حاصل کیے جنہیں دستاویزات میں حکومت سے آزاد قرار دیا گیا۔ حکام نے ووٹر رجسٹریشن تنظیموں کی چھان بین کی اور بعض گروپوں کی تحقیقات کے لیے خفیہ اہلکار تعینات کرنے پر بھی غور کیا۔
وفاقی حکام ووٹر فہرستوں کو امیگریشن ریکارڈ، بشمول غیر ملکی رجسٹریشن نمبروں، سے ملا کر ممکنہ غیر شہریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم اس طریقے کی درستگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ بعض تارکینِ وطن رجسٹریشن کے بعد امریکی شہریت حاصل کر چکے ہو سکتے ہیں۔ کیلیفورنیا کا مؤقف ہے کہ اہلیت غیر واضح ہونے پر کارروائی سے پہلے قابلِ اعتماد ثبوت ضروری ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے ویلڈن کوپر سینٹر کے مطابق امریکا میں رہنے والے 4 کروڑ 60 لاکھ تارکینِ وطن میں سے 2 کروڑ 45 لاکھ قدرتی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ امریکن امیگریشن کونسل کے اندازے کے مطابق 2 کروڑ 25 لاکھ اہل ووٹرز 284 کانگریشنل حلقوں میں رہتے ہیں، جن میں تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ رجسٹرڈ ہیں۔ 126 حلقوں میں ان کی تعداد 2024 کے انتخابی جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔
اکتوبر میں شائع ہونے والے این بی سی نیوز اور ٹیلیمنڈو کے سروے میں 59 فیصد لاطینی جواب دہندگان نے کانگریس میں ڈیموکریٹ کنٹرول کی حمایت کی، جبکہ 35 فیصد ریپبلکن کنٹرول کے حق میں تھے۔ تقریباً دو تہائی نے کہا کہ ٹرمپ کی ملک بدری کی پالیسیاں حد سے آگے بڑھ چکی ہیں۔
