Israel's reservations about the US-Iran deal persist, a new test for Netanyahu
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی اکانومسٹ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے طے پانے والے مجوزہ معاہدے نے اسرائیل میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود اسرائیل اپنے کئی بنیادی اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں کر سکا۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ اس دوران ایران کی بعض عسکری تنصیبات اور صلاحیتوں کو نقصان پہنچا، تاہم ایرانی حکومت برقرار رہی اور اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور خطے میں اثر و رسوخ سے متعلق اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو جوہری خطرات سے محفوظ بنایا گیا، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر انہوں نے محتاط مؤقف اختیار کیا۔ مبصرین کے مطابق معاہدے میں فوری طور پر ایران کے جوہری پروگرام یا میزائل نظام کے مستقبل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ شامل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان حساس معاملات پر آئندہ 60 روزہ مذاکرات میں بات چیت کی جائے گی، جبکہ ایران کے علاقائی اتحادی گروپوں کے حوالے سے بھی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ادھر لبنان میں صورتحال بھی اسرائیل کیلئے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ضروریات کے تحت بعض علاقوں میں موجودگی برقرار رکھے گا، جبکہ ایران اور اس کے اتحادی جنگ بندی کے مکمل نفاذ پر زور دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے اہداف میں بھی فرق نمایاں ہوا۔ جہاں اسرائیل ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا خواہاں تھا، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح تنازع کے خاتمے اور سفارتی حل کی جانب پیش رفت رہی۔



