اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششوں کے تحت دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم لبنان میں اسرائیلی حملوں نے جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی متوقع مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچنے والے ہیں۔ یہ مذاکرات رواں ہفتے طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کے بعد ہونے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی فضائی اور ڈرون حملوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک ہو گئے۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں، خصوصاً نباتیہ اور اس کے گردونواح میں رات بھر بمباری اور گولہ باری جاری رہی، جس سے متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔
امریکی حکام کے مطابق لبنان میں جنگ بندی جمعہ کی شام نافذ ہوئی تھی اور اس کی تصدیق حزب اللہ اور اسرائیلی حکام نے بھی کی تھی، تاہم تازہ حملوں نے صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل نے ان حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے مجوزہ دورے کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے بعد مذاکراتی عمل کی ذمہ داری اسٹیو وٹکوف اور دیگر سفارتی نمائندوں کے سپرد کی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے وٹکوف کے دورے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا جبکہ ایران نے بھی عباس عراقچی کی سفری تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ معاہدے کے تحت لبنان میں جنگ بندی سمیت تمام امریکی وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا واشنگٹن کی ذمہ داری ہے۔
ادھر لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی جامع جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر نہیں کرے گی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی لبنانی صدر سے رابطہ کیا اور لبنان کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ سے شدید متاثر ہوا ہے اور آئندہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران واشنگٹن اپنے مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مستقبل کے مذاکرات باہمی احترام اور معاہدے کی شقوں پر مکمل عمل درآمد کی بنیاد پر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
