Iran-US conflict Pakistan's role in behind-the-scenes diplomacy is key
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باوجود پاکستان سفارتی عمل میں بدستور ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں اب کھلے مذاکرات کے بجائے پسِ پردہ رابطے تیزی سے جاری ہیں۔
جنگ بندی کے بعد شروع ہونے والی پیش رفت میں پاکستان مرکزی حیثیت اختیار کر گیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں مجوزہ مذاکراتی دور ایران کی شرائط، خصوصاً امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق اب بیک چینل سفارت کاری نے اہمیت اختیار کر لی ہے اور اسلام آباد اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا ایک مؤثر ذریعہ بنا ہوا ہے۔ حال ہی میں ایران نے اپنی ایک تجویز بھی پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی کو اولین قدم قرار دیا گیا تھا، تاہم واشنگٹن نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو صورتحال کا ادراک ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل کیلئے حکمت عملی پر واضح اختلافات برقرار ہیں۔ ایران مرحلہ وار پیش رفت چاہتا ہے، جبکہ امریکا ایک جامع معاہدے پر زور دے رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران جلد نظرثانی شدہ تجویز دوبارہ پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں بلکہ سست روی کا شکار ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی خطے کے مختلف ممالک کے دورے کر کے متبادل سفارتی راستے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ روس سمیت دیگر ممالک بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب عالمی توانائی منڈی میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی اختیار کر لی، جسے ماہرین خطے میں بدلتی معاشی و سیاسی حرکیات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔




