Iran strongly reacts to US threats against Oman, calls the move illegal
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران نے عمان کے خلاف امریکی حکام کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ خطے میں ایران امریکا کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے عمان پر ممکنہ پابندیوں کی دھمکی ایک آزاد ریاست کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات امریکا کے ’’اخلاقی دیوالیہ پن‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور عالمی برادری کو اس طرز عمل کا نوٹس لینا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی دنیا کو متبادل توانائی اور تجارتی راستوں کی جانب لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل مستقبل میں بحیرہ روم تک ممکنہ تجارتی راہداری کا حصہ بن سکتا ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی میڈیا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بوشہر کے قریب ایک امریکی طیارہ مار گرایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق تمام امریکی فضائی اثاثے محفوظ ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ممکنہ معاہدے کی حتمی منظوری ابھی سامنے نہیں آئی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کی جا سکتی ہے، جبکہ بعض ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ پیشرفت اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات ہیں۔



