Hopes remain for Gaza peace plan, US announces continuation of talks with Israel

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ اب بھی فعال ہے اور اسرائیل کے ساتھ اس پر بات چیت جاری ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہ کر دیا جائے۔

امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امن منصوبہ اب بھی مکمل طور پر فعال اور آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد اور زمینی صورتحال کی تصدیق کے حوالے سے طریقہ کار طے کیا گیا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ منصوبے کے تحت ہر مرحلہ اسی وقت آگے بڑھے گا جب متعلقہ فریق اپنی مطلوبہ ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اسرائیل و حماس دونوں نے اس کے بنیادی فریم ورک سے اتفاق کیا ہے۔

منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ سے مرحلہ وار انخلا کریں گی جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا۔ اس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کے لیے ایک بین الاقوامی استحکامی فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔

تاہم نیتن یاہو کی جانب سے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی انخلا سے انکار نے منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امن فریم ورک ختم نہیں ہوا اور فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔