اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق انڈونیشیا میں خراب موسم کے دوران مسافر بردار جہاز الٹنے کے بعد 129 لاپتا افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے، جبکہ حادثے میں اب تک 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق ورگو ٹرانسپورٹ 8 نامی جہاز میں 243 افراد سوار تھے اور یہ مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کلیمانتان کے بنجرماسن جا رہا تھا۔ جہاز اتوار کی صبح خراب موسم کے دوران لاپتا ہوا، جس کے بعد 108 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے کم از کم 622 اہلکار، 17 بحری جہاز، 5 ہیلی کاپٹر اور طیارے شامل ہیں۔ تاہم تیز ہواؤں، بلند لہروں اور شدید سمندری طغیانی کے باعث امدادی ٹیموں کو الٹے ہوئے جہاز تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد شفیعی نے بتایا کہ موجودہ سمندری حالات میں زیر آب ریسکیو اہلکاروں کے لیے کارروائی کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق مزید خصوصی مہارت رکھنے والے اہلکاروں کی تلاش جاری ہے اور موسم بہتر ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو ایجنسی کی ویڈیو میں سرخ اور سیاہ رنگ کا جہاز الٹا ہوا اور جزوی طور پر پانی میں ڈوبا دکھائی دیا، جبکہ اس کے قریب چھوٹی کشتیوں میں امدادی اہلکار موجود تھے۔ حادثے کی جگہ بنجرماسن کی ٹرِسکتی بندرگاہ میں قائم کمانڈ سینٹر سے تقریباً 80 ناٹیکل میل، یعنی 150 کلومیٹر دور ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کے وقت لہریں تقریباً 3 میٹر تک بلند تھیں۔ عام موسمی حالات میں جائے حادثہ تک پہنچنے میں تقریباً 5 گھنٹے لگتے ہیں، تاہم خراب موسم میں یہ سفر 9 گھنٹے تک طویل ہوسکتا ہے۔
اتوار کو حکام نے بتایا تھا کہ شدید لہروں کے جہاز کے دائیں جانب ٹکرانے کے بعد یہ ایک طرف بری طرح جھک گیا تھا۔ وزیر ٹرانسپورٹ ڈوڈی پُرواگندھی نے کہا کہ جہاز کی گنجائش 500 افراد تھی، اس لیے اسے گنجائش سے زیادہ مسافروں کا حامل نہیں کہا جاسکتا۔
انڈونیشیا تقریباً 17 ہزار جزائر پر مشتمل ملک ہے جہاں بحری سفر سستا اور ہوائی سفر کے مقابلے میں زیادہ قابل رسائی سمجھا جاتا ہے، تاہم سمندری حادثات بھی عام ہیں۔ گزشتہ ماہ دو الگ واقعات میں سیکڑوں مسافروں کو لے جانے والی فیریوں میں آگ لگ گئی تھی، جبکہ مدورا جزیرے کے قریب ایک واقعے میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
