Efforts for diplomatic progress on the Ukraine war security guarantees and a ceasefire discussed at the Abu Dhabi meeting.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے امریکا کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 10 اور 11 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہوگا۔ مجوزہ اجلاس میں جنگ کے بعد سکیورٹی انتظامات، کشیدگی میں کمی، انسانی امداد اور تنازع کے خاتمے کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی۔

امریکی وفد کی نمائندگی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کریں گے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دو ہفتے قبل سینٹ پیٹرزبرگ میں وٹکوف سے ملاقات کے بعد اس مذاکراتی عمل میں شرکت پر اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل یوکرین کی سکیورٹی ضمانتوں اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے معاملات پر یورپی ممالک کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی۔ برسلز میں ہونے والی مشاورت میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، یورپی یونین اور نیٹو کے نمائندے شریک ہوئے۔ ان مذاکرات میں یورپ کے مستقبل کے سکیورٹی ڈھانچے اور یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کے امور زیر غور آئے۔

تاہم روس اور یوکرین کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ علاقائی کنٹرول اور مقبوضہ علاقوں کے مستقبل کا معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ یوکرین کسی علاقائی رعایت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور مستقبل میں روسی حملے روکنے کے لیے ٹھوس سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب ماسکو چاہتا ہے کہ یوکرین کی فوجی صلاحیتوں اور نیٹو کے ساتھ اس کے تعلقات پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ روسی مؤقف کے مطابق یوکرین کی سلامتی سے متعلق انتظامات میں اس کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

امریکا کی ثالثی میں روس، یوکرین اور واشنگٹن کے درمیان آخری باضابطہ سہ فریقی مذاکرات فروری میں ہوئے تھے۔ تاہم ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ سفارتی عمل متاثر ہوا۔ ستمبر میں رابطوں کی بحالی کی کوششیں کی گئیں، لیکن کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔

روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ شروع کیا تھا۔ اس جنگ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کا سب سے بڑا فوجی تنازع قرار دیا جاتا ہے۔ ابوظہبی میں ہونے والا اجلاس ایک بار پھر سفارتی حل کی کوشش ہے، تاہم فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات کے باعث فوری معاہدے کی راہ آسان دکھائی نہیں دیتی۔