Drone attack on Fujairah oil zone, UAE claims to have shot down Iranian missile
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں آئل انڈسٹری زون پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جبکہ یو اے ای نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں آگ ڈرون حملے کے نتیجے میں لگی، جس پر قابو پانے کے لیے سول ڈیفنس کی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئیں۔ فجیرہ میڈیا آفس نے بتایا کہ ہنگامی کارروائیاں بروقت شروع کر دی گئی تھیں۔
وزارتِ دفاع یو اے ای کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائلوں کا سراغ لگایا گیا، جن میں سے تین کو فضائی حدود میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک سمندر میں جا گرا۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں سنی جانے والی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کا نتیجہ تھیں۔
یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا اور کہا کہ امارات اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ادھر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان الزامات پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران کا یو اے ای کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں تین غیر ملکی شہری زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بیانات اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان کی بحریہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال رکھنے کے لیے سرگرم ہے، جبکہ ایران نے کسی بھی غیر ملکی مداخلت پر سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔





