Engineer Mirza case Court declares Council of Islamic Ideology opinion null and void
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو کسی بھی فرد کی فوجداری ذمہ داری سے متعلق رائے دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے کونسل کی جانب سے 2025 میں انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف دی گئی رائے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا۔
تفصیلی فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے تحریر کیا گیا ، جس میں کہا گیا کہ کونسل نے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایک زیرِ تفتیش معاملے پر رائے دی۔ عدالت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 229 اور 230 کے تحت سی آئی آئی کا کردار صرف صدر، گورنر، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو مشاورتی رہنمائی فراہم کرنا ہے، نہ کہ عدالتوں یا تحقیقاتی اداروں کو۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کونسل نہ تو کوئی عدالتی فورم ہے اور نہ ہی اسے کسی فرد کے خلاف فوجداری ذمہ داری کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے، یہ اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے۔ مزید کہا گیا کہ زیرِ سماعت مقدمے پر رائے دے کر کونسل نے منصفانہ ٹرائل کے آئینی حق کو بھی متاثر کیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے توہینِ مذہب کے ایک کیس میں انجینئر محمد علی مرزا کے یوٹیوب بیان پر کونسل سے علمی رائے طلب کی اور اسے تفتیش کا حصہ بنا لیا۔
اس اقدام کو ڈاکٹر اسلم خاکی نے عدالت میں چیلنج کیا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ کونسل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ تحقیقاتی ادارے ماہرین سے رہنمائی تو لے سکتے ہیں، لیکن ایسی آراء کو قانونی حیثیت دے کر فوجداری کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر حکومت یا کونسل اپنے اختیارات میں توسیع چاہتی ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہوگا، بصورت دیگر آئینی حدود سے باہر کی کوئی بھی کارروائی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی فرد کی فوجداری ذمہ داری کا حتمی فیصلہ صرف عدلیہ کا اختیار ہے۔




