اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران امریکا تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران قطر کا اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق قطری وفد کی قیادت وزیراعظم کے ایک سینئر مشیر کر رہے ہیں۔
قطر اور پاکستان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی مارے گئے تھے۔
ایران نے جوابی کارروائیوں کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی مجموعی تیل کھپت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں۔ عمانی حکام نے پاناما کے پرچم بردار جہاز آر آئی ٹی آئی پر حملے اور آگ لگنے کے بعد اس کے 25 عملے کے ارکان کو ریسکیو کیا۔
ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تین آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت روک دی، جن میں ایک ایسا سپر ٹینکر بھی شامل تھا جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل موجود تھا اور وہ مبینہ طور پر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔
اسی دوران امریکی شہر اٹلانٹا میں جی 20 اجلاس کے موقع پر بھی روس اور یوکرین جنگ کے باعث اختلافات سامنے آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ فیصلہ کن لمحہ ہے، جبکہ یورپی رہنماؤں کے اعتراض کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مجوزہ گروپ تصویر منسوخ کر دی گئی۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فول نے کہا کہ روس کے ساتھ معمول کے تعلقات کا تاثر نہیں دیا جا سکتا۔
جی 20 اجلاس کے دوران سامنے آنے والے اختلافات نے عالمی سفارت کاری میں تقسیم کو بھی نمایاں کیا ہے۔
دسمبر میں میامی کے علاقے ڈورل میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل ان معاملات کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
