Trump’s new signal regarding war with Iran; reports emerge of plans for US strikes and military deployments in the region.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد اس بات کی ضمانت حاصل کرنا ہے کہ تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

 تاہم ان کے اس بیان کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں، آبنائے ہرمز میں حملوں اور سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی ضمانت کے بغیر اعتماد نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا جائے گا۔

 امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مستقل جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

دوسری جانب قطر کے ثالثی وفد نے واشنگٹن کے ساتھ رابطوں کے بعد تہران واپسی اختیار کی ہے۔

 اطلاعات کے مطابق جے ڈی وینس نے ایرانی عہدیدار محسن رضائی کو ایک خط بھیجا تھا، جس کی تہران کو موصولی کی اطلاع ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا گیا۔

آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غیر مجاز راستے سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں کو روک لیا۔ برطانوی میری ٹائم حکام کے مطابق پاناما کے پرچم بردار جہاز لوئس ون کے انجن روم میں آگ لگی، جب ایک چھوٹی کشتی سے اس کے ساتھ دو بارودی مواد سے بھرے آلات منسلک کیے گئے۔

 واقعہ عمان کے علاقے خصب سے تقریباً 46 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا۔ عملہ محفوظ رہا اور آگ بجھا دی گئی۔ میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی میریسکس کے مطابق اس نوعیت کے کم لاگت حملے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ عمانی بحریہ نے ایک دوسرے تجارتی جہاز کے 25 افراد کو بھی ریسکیو کیا۔

ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے غلام حسین درزی نے سمندری عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ 28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی تھی۔

 انہوں نے امریکی ناکہ بندی کو خوراک، ادویات اور ایندھن کی فراہمی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی برطانیہ پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔

ادھر امریکی فوجی نقل و حرکت میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کے مطابق امریکی کارگو طیارے اوودا اور نیواتیم کے فضائی اڈوں پر پہنچے، جبکہ دیگر طیارے اردن، سعودی عرب اور قطر بھیجے گئے۔

 امریکی حکام نے ان اطلاعات کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں پیٹریاٹ دفاعی نظام منتقل کیا گیا، امریکی اہلکاروں کو احتیاطاً بعض اڈوں سے نکلنے کی ہدایت دی گئی اور نومبر میں مزید طیارہ بردار جہاز اور میرینز کی آمد متوقع ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے۔