اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں فائر اور لائف سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کے لیے کارروائی تیز کردی ہے، جس کے تحت متعدد بلند عمارتیں سیل جبکہ تین اسپتالوں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
سی ڈی اے نے فائر اور لائف سیفٹی تقاضے پورے نہ کرنے پر پمز، پولی کلینک اور اپنے ہی کیپیٹل اسپتال پر 5،5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
بلیو ایریا میں کارروائی کے دوران شہید ملت بلڈنگ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی عمارت اور بیورلی سینٹر کو سیل کردیا گیا، جبکہ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کی عمارت کا بھی معائنہ جاری تھا۔
سی ڈی اے حکام کے مطابق بلیو ایریا کے دو ہوٹلوں کے کچھ حصے بھی سیل کیے گئے ہیں اور ان میں مزید مہمانوں کی بکنگ اور داخلہ روک دیا گیا ہے۔
ایک سی ڈی اے افسر نے بتایا کہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کئی عمارتوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ٹیمیں ایف الیون بھی پہنچ چکی تھیں، جہاں ایک سیاست دان کی ملکیت بلند رہائشی عمارتوں کو متعدد نوٹسز کے باوجود حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے پر سیل کیا جانا تھا۔
سی ڈی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں فائر اور لائف سیفٹی معیار پر عمل درآمد مزید سخت کردیا گیا ہے اور انسانی جانوں کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے متعلقہ شعبوں کو سنگین فائر سیفٹی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنانے اور حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ مختلف عمارتوں کا معائنہ کررہا ہے تاکہ آگ سے بچاؤ، ہنگامی راستوں، فائر فائٹنگ انتظامات اور انخلا کی تیاریوں سمیت دیگر حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی جاسکے۔
دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی مبینہ طور پر فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔
