اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے یا سرحد پار دریاؤں کے پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے کی کوشش جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
نیوز ویک میں شائع اپنے مضمون میں رضوان سعید شیخ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر متوازن قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی معاہدے کی تاریخ، ساخت اور مقصد کو اپنے حق میں پیش کر رہا ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت اپریل 2025 میں معاہدے کو یکطرفہ طور پر زیر التوا رکھنے کے اعلان کے بعد اپنے اقدام کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ اس اقدام کی بنیاد نہ معاہدے میں ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں۔
ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو ایک دہائی پر محیط مذاکرات کے بعد عالمی بینک کی سہولت کاری سے طے پایا تھا۔ یہ نہ تو بھارت کی سخاوت تھی اور نہ پاکستان کے لیے کوئی رعایت بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باقاعدہ اور پابند بین الاقوامی معاہدہ تھا۔
رضوان سعید شیخ نے بھارت کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان نے بھارتی پن بجلی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے آرٹیکل IX کے تحت تنازعات کے حل کے طریقہ کار سے رجوع کرنا کسی منصوبے کی مخالفت نہیں بلکہ پاکستان کا وہ حق ہے جو خود معاہدے میں دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت معاہدے کے تحت پن بجلی منصوبوں کی اجازت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی معاہدے میں موجود تکنیکی حدود اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
پاکستانی سفیر کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں کسی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل، زیر التوا یا ختم کرنے کی اجازت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپریل 2025 کا بھارتی اعلان معاہدے کی قانونی حیثیت یا اس سے پیدا ہونے والے حقوق و ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرسکتا۔
انہوں نے سیاسی اور سکیورٹی تنازعات کو معاہدے سے انحراف کا جواز بنانے کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ دہشت گردی یا دیگر دوطرفہ اختلافات سے متعلق الزامات کسی ریاست کو پابند معاہدے کو یکطرفہ طور پر دوبارہ لکھنے کا حق نہیں دیتے۔
رضوان سعید شیخ نے خبردار کیا کہ دریاؤں کو ہتھیار بنانے سے پانی کے معاملات میں یقینی پن اور پیش بینی متاثر ہوگی اور پہلے ہی کشیدہ خطے میں امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور بھارت کو چاہیے کہ یکطرفہ اقدامات واپس لے، معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور اختلافات کے حل کے لیے طے شدہ ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کرے۔
