اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے سرحد پار انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق افغان طالبان کے دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائیوں کا ہدف دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچوں کو بنایا جاتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے اور ان کارروائیوں میں احتیاط اور تناسب کے اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ 2026 کے دوران دہشت گرد حملوں میں پاکستان کو 3,500 سے زیادہ جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں حملے کرنے والے گروہوں کے استعمال میں آ رہی ہے، جن میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے نام سے شناخت کیے جانے والے عناصر شامل ہیں۔
پاکستان افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ افغان طالبان کو ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کا پابند بنایا جائے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی لاجسٹک معاونت کے مراکز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو۔ تاہم، دونوں جانب سے سامنے آنے والے دعووں اور الزامات پر آزادانہ تصدیق کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سرحدی کشیدگی کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی صورت حال بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد گزشتہ 12 برس میں کسی ایک ماہ کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
دفتر خارجہ نے امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان افغان شہریوں کو بھرتی کر رہا ہے۔
پاکستان نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ اس کی بنیادی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ اور شہریوں کا تحفظ ہے۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے افغان حکام کو اپنی سرزمین سے سرگرم پاکستان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
