اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ اور بگڑتے معاشی حالات نے وہاں مقیم افغان مہاجرین کے لیے مشکلات میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں افغان خاندان ایران چھوڑ کر افغانستان واپس پہنچ رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایران میں تیزی سے بڑھتی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کے باعث کئی افغان مہاجرین کے لیے وہاں قیام مزید مشکل ہوگیا ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں تقریباً 130 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی مہنگائی بھی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ پڑا ہے۔ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی نے بھی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی افغان مزدور بے روزگار ہوگئے اور ان کی جمع پونجی کی قدر بھی تیزی سے کم ہوئی۔
مغربی افغانستان میں واقع اسلام قلعہ سرحدی گزرگاہ پر واپس آنے والے خاندانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ افغان حکام کے مطابق روزانہ درجنوں خاندان ایران سے سرحد عبور کررہے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
واپس آنے والوں میں محمد سعید کا خاندان بھی شامل ہے، جو 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد ایران منتقل ہوا تھا۔ خاندان نے وہاں پیزا میں استعمال ہونے والا پنیر تیار کرنے کا کاروبار شروع کیا، تاہم مہنگائی کے باعث دودھ اور دیگر خام مال کی قیمتیں بڑھتی گئیں اور کاروبار چلانا مشکل ہوگیا۔
اب خاندان افغانستان واپس آکر اپنی آخری بچت سے دوبارہ چھوٹا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم افغانستان میں واپسی بھی آسان نہیں، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع محدود ہیں۔
سعید کی 17 سالہ بہن نے بتایا کہ آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اب وہ افغانستان میں گھر تک محدود رہنے پر مجبور ہے۔
افغان خاندانوں کے لیے صورتحال ایک مشکل انتخاب بن چکی ہے؛ ایک طرف ایران میں جنگ، مہنگائی اور روزگار کا بحران ہے تو دوسری جانب افغانستان میں معاشی مشکلات اور خواتین کے لیے محدود مواقع ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
