اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور مکہ کے مشترکہ دفاعی اتحاد سے وابستہ ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیان اور سعودی وزارت خارجہ کے مطابق، سفارتی رابطوں کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنا اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کے راستے کھلے رکھنا ہے۔
ملاقاتوں اور رابطوں میں پاکستان کی جانب سے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکیہ کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ ابراہیم قالن، جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور محسن رضائی سمیت اہم شخصیات شریک رہیں۔ گفتگو میں علاقائی سلامتی، فلسطین کی صورت حال اور لبنان میں جاری کشیدگی جیسے معاملات زیر بحث آئے۔
سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ نے پورے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
یمن کے حوثی گروپ کے حملوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے بھی علاقائی سلامتی سے متعلق تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدے پر اگست میں دستخط کیے گئے تھے، جبکہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے اس کی توثیق کی۔ ترکیہ میں معاہدے سے متعلق پارلیمانی کارروائی تاحال جاری ہے۔ معاہدے اور سفارتی رابطوں کے باوجود خطے کی صورت حال پیچیدہ ہے، اور مذاکرات کے عملی نتائج کا انحصار متعلقہ فریقین کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔
ایرانی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران علاقائی مسائل کے حل کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے پر آمادہ ہے۔ تاہم، فوری طور پر کسی بڑے معاہدے یا کشیدگی کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
