اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد جزوی طور پر کھولے جانے کے باوجود ہزاروں مال بردار ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جس سے سرحدی تجارت اور ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
گوادر چیمبر آف کامرس کے صدر میر نوید جان کلمتی کے مطابق، ایرانی جانب تقریباً 3 سے 4 ہزار ٹرک جبکہ پاکستانی جانب 2 سے 3 ہزار ٹرک کلیئرنس کے منتظر ہیں۔
ان کے مطابق، سرحدی راستوں پر صرف مخصوص گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ بعض گاڑیوں کے لیے 16 اکتوبر سے پہلے کے دستاویزات کی شرط کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
اس صورت حال نے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے غیر یقینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ گاڑیوں کی کلیئرنس میں تاخیر سے مال کی ترسیل اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے تجارت، بشمول مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی برآمدات، پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
ان کے مطابق، مسئلے کی وجہ پاکستان میں ای فارم سے متعلق طریقہ کار ہے۔ دوسری جانب پاکستانی وزارتوں کی جانب سے اس معاملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایل پی جی کی ترسیل میں رکاوٹ سے سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
سرحدی تجارت سے وابستہ کاروباری حلقوں کے لیے بھی تاخیر اضافی اخراجات کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ان گاڑیوں کے لیے جو کئی روز سے سرحد کے دونوں جانب کھڑی ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ تہران کے دورے پر ہیں۔ اسی دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی رابطوں میں ایران کے ساتھ علاقائی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔
سرحدی تجارت کی مکمل بحالی کے لیے گاڑیوں کی کلیئرنس، دستاویزات اور ای فارم کے طریقہ کار پر وضاحت ضروری دکھائی دیتی ہے۔ تاہم، حکام کی جانب سے تمام پھنسے ہوئے ٹرکوں کو معمول کے مطابق گزرنے کی اجازت دینے کے لیے کسی حتمی وقت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
