High-level meetings between Pakistan, Saudi Arabia, Turkey, and Iran; discussions held on regional security.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی خبر کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام پیر کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی عہدیداروں سے ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک اور ایران کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات ہوگی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے، جبکہ پاکستان کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر شرکت کریں گے۔ ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بھی وفد میں شامل ہوں گے۔

سعودی حکومت کے میڈیا دفتر اور پاکستان کے فوجی شعبہ تعلقات عامہ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کے حوالے سے تہران میں ملاقات کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ایرانی جنرل محسن رضائی سے ملاقات کریں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی فضائی دفاع نے اتوار کو بھی حملوں کی ایک نئی لہر کو روکنے کی اطلاعات دیں۔

 اس سے قبل رواں ماہ ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے وزرا کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو درپیش خطرات ختم کرنے کے لیے ’’تمام ضروری ذرائع‘‘ استعمال کریں گے۔

معاہدے کی توثیق کے لیے ترکیہ کی پارلیمان میں کارروائی گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی اور ابھی جاری ہے، جبکہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔ سعودی عرب بھی اس دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔

ایران سے ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے تناظر میں خطے میں وسیع جنگ کے خدشات برقرار ہیں۔ 

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں ملاقات کے مکمل ایجنڈے یا کسی متوقع معاہدے کی تفصیلات موجود نہیں، اس لیے مذاکرات کے نتائج سے متعلق کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔