Pakistan's mediation efforts receive significant diplomatic support, Muslim and European powers at the table to prevent a war with Iran

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تنازع کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔ چاروں ممالک نے شہریوں، شہری تنصیبات اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز اور خطے میں مزید فوجی تصادم روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جمعے کو استنبول میں ہونے والے آر 4 وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں چاروں ممالک نے اسلام آباد ایم او یو کی حمایت کی اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی عدم استحکام میں اضافہ کرے گی۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ایران میں فوجی مداخلت کسی بھی صورت حل نہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس کی حمایت نہیں کرتا۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی اجلاس سے پہلے کہا کہ امریکی انتخابات کے بعد خلیج میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے آثار موجود ہیں، اس لیے فوری ترجیح ایک اور جنگ کو روکنا ہونی چاہیے۔

مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز سے محفوظ، بلا رکاوٹ اور مکمل بحری آمدورفت جلد بحال کرنے پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے قانونی بحری نقل و حرکت پر پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ سمندری راستوں میں خلل توانائی، خوراک، کھاد اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرسکتا ہے۔

یمن کے معاملے پر چاروں ممالک نے سعودی عرب، شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حوثی حملوں کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ انہوں نے سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائیاں روک کر سیاسی عمل کی طرف واپس آئیں۔

فلسطین کے معاملے پر آر 4 نے اسرائیلی قبضے کو علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا اور تشدد و آبادکاری کی سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ بیان میں 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ وزرائے خارجہ نے غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور تعمیر نو کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اجلاس کے بعد شرکا نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے ترک صدر کو نیک تمنائیں پہنچائیں۔ ملاقات میں علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا تھا کہ آر 4 علاقائی عدم استحکام سے نمٹنے کا اہم فورم بن کر ابھرا ہے اور یورپی ممالک سے روابط کے ذریعے اس کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں یمن، حوثیوں، آبنائے ہرمز اور اہم سمندری راستوں کی سلامتی سمیت پورے خطے کو متاثر کرنے والے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کرلیا ہے، جبکہ ترکیہ میں اس معاہدے کے لیے ضروری داخلی قانونی کارروائی جاری ہے۔ ان کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہے۔