اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے ہفتے کو اعلان کیا کہ سعودی عرب کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کردیا گیا ہے، جبکہ مشرقی صوبے میں ایک ڈرون بھی روک کر مار گرایا گیا۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی علاقے پر سرحد پار حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کے ابتدائی انتباہی نظام نے ہفتے کی صبح چار بجے کے کچھ دیر بعد ریاض، نجْران اور ریاض صوبے کے جنوبی علاقے وادی الدواسر میں ممکنہ فضائی خطرات سے متعلق الرٹ جاری کیا۔ اس انتباہ کے چند منٹ بعد سعودی دارالحکومت میں دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کردیا۔ ان کے ایک پہلے بیان میں بتایا گیا تھا کہ مشرقی صوبے میں بھی ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا گیا ہے۔
سعودی عرب حالیہ ہفتوں کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کی مسلسل کوششوں کا سامنا کررہا ہے۔ اس سلسلے میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والا ایک حملہ خاص طور پر نمایاں رہا، جسے کئی برسوں میں مملکت پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔
یمن کی سرحد کے ساتھ واقع نجْران ماضی میں بھی راکٹوں اور ڈرونز کے حملوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب وادی الدواسر ریاض صوبے کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور صحرائے ربع الخالی کے قریب علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
حوثی ملیشیا بعض مواقع پر سعودی علاقے کو نشانہ بنانے والے مخصوص حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتی رہی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں سرحد پار حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کشیدگی جولائی میں چار سال سے جاری ایک غیرمستحکم جنگ بندی کے خاتمے کے بعد بڑھی، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی تنازع نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
یمن میں جنگ 2014 کے اواخر میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد جاری تنازع میں لاکھوں افراد ہلاک یا متاثر ہوئے اور یمن جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک کی حیثیت سے دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہوگیا۔ تازہ میزائل اور ڈرون حملوں سے خطے میں جنگ کے دوبارہ پھیلنے اور شہری آبادی و اہم تنصیبات کو خطرات بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
