اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آٹھویں ماہ میں داخل ہونے کے دوران ایک اور فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا دوبارہ محدود پیمانے پر حملہ کرسکتا ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایندھن کی بڑھتی قیمتیں امریکی وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا خدشہ پیدا کررہی ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری آپریشن کرسکتے ہیں۔ صدر نے ممکنہ کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جنگ کو جلد ختم کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا تنازع کو فوری طور پر ختم کرنا بہتر ہوگا یا اسے بتدریج اختتام تک پہنچنے دیا جائے۔ صدر جنگ کے مقاصد اور اس کے خاتمے کے وقت کے حوالے سے مختلف بیانات دیتے رہے ہیں۔ حالیہ انتخابی تقاریر میں وہ کہہ چکے ہیں کہ جنگ کسی نہ کسی صورت جلد ختم ہوجائے گی۔
اس ماہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہونا ہے، جہاں ان کی ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔
دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں امریکی حکام کو نشانہ بنانے کی کوششیں نمایاں طور پر تیز کردی ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسس کے مطابق بعض مبینہ منصوبے ایسے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جہاں جان لیوا حملوں کا خطرہ موجود ہے۔
رپورٹ میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو 23 اکتوبر کو بھیجے گئے ایک میمو کا حوالہ دیا گیا۔ ایک صفحے پر مشتمل غیر خفیہ میمو میں مبینہ اہداف، مشرق وسطیٰ سے باہر متعلقہ ممالک یا سازشوں کی نوعیت کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس میں کہا گیا کہ معلومات ایسے مزید اہلکاروں کے لیے اہم ہیں جنہیں فی الحال یہ مواد دیکھنے کی اجازت نہیں۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ انٹیلی جنس محکمہ خارجہ کے سینئر حکام کے ساتھ شیئر کی جاچکی ہے، جبکہ کلیٹن نے معلومات کی درجہ بندی مزید کم کرنے کی پیشکش کی تاکہ روبیو انہیں وسیع حلقے تک پہنچا سکیں۔
ایک امریکی اہلکار نے ایکسس کو بتایا کہ یہ انٹیلی جنس متحدہ عرب امارات، لبنان، قطر اور اردن میں امریکی سفارت خانوں سے عملہ کم کرنے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل سی این این نے بھی ان سفارتی اقدامات کی اطلاع دی تھی۔ تاہم رپورٹ میں مبینہ سازشوں کے اہداف یا ان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
